کچھ دیر پہلے نیند سے
کلام: افتخارعارف
میں جن کو چھوڑ آیا تھا شناسائی کی بستی کے وہ سارے راستے آواز دیتے ہیںنہیں معلوم اب کس واسطے آواز دیتے ہیں
لہو میں خاک اڑتی ہےبدن خواہش بہ خواہش ڈھ رہا ہے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)
مہمان شاعر: افتخارعارف
میں جن کو چھوڑ آیا تھا شناسائی کی بستی کے وہ سارے راستے آواز دیتے ہیںنہیں معلوم اب کس واسطے آواز دیتے ہیں
لہو میں خاک اڑتی ہےبدن خواہش بہ خواہش ڈھ رہا ہے
کیا لگا تھاکہ خود کو مجھ میں نچوڑ دوگے
پھر ہم سے پوچھو گے غم ہمارےجب دل بھرے گا تو چھوڑ دو گے