اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا
اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوااس دل کی جھیل سی آنکھوں میں اک خواب بہت برباد ہوا
یہ ہجر ہوا بھی دشمن ہے اس نام کے سارے رنگوں کیوہ نام جو میرے ہونٹوں پر خوشبو کی طرح آباد ہوا
اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)
مہمان شاعر: نوشی گیلانی
اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوااس دل کی جھیل سی آنکھوں میں اک خواب بہت برباد ہوا
یہ ہجر ہوا بھی دشمن ہے اس نام کے سارے رنگوں کیوہ نام جو میرے ہونٹوں پر خوشبو کی طرح آباد ہوا
ہمیں کس ہاتھ کی محبوب ریکھاؤں میں رہنا تھاکس دل میں اترنا تھا
چمکنا تھا کن آنکھوں میںکہاں پر پھول بننا تھا
وصال رت کی یہ پہلی دستک ہی سرزنش ہےکہ ہجر موسم نے رستے رستے سفر کا آغاز کر دیا ہے
تمہارے ہاتھوں کا لمس جب بھی مری وفا کی ہتھیلیوں پر حنا بنے گاتو سوچ لوں گی
زمانے کے چلن سے برسرِ پیکار عورت ہوںسو ہر اک مرحلے پر جبر سے دوچار عورت ہوں
گناہوں میں بہت بھی ہو تو حصہ نصف ہے میراسزاؤں کے لیے تنہا مگر حقدار عورت ہوں