21 اشعار

ہوا جام صحت تجویز کرتی ہے

Hawa jaam-e-sehhat tajweez karti hai

ہوا جام صحت تجویز کرتی ہے

«ہوا جام صحت تجویز کرتی ہے» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے روح من نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

مجھے معلوم تھایہ دن بھی دکھ کی کوکھ سے پھوٹا ہے

میری ماتمی چادرنہیں تبدیل ہوگی آج کے دن بھی

جو راکھ اڑتی تھی خوابوں کی بدن میںیوں ہی آشفتہ رہے گی

اور اداسی کی یہی صورت رہے گیمیں اپنے سوگ میں ماتم کناں

یوں سر بہ زانو رات تک بیٹھی رہوں گیاور مرے خوابوں کا پرسہ آج بھی کوئی نہیں دے گا

مگر یہ کون ہےجو یوں مجھے باہر بلاتا ہے

بڑی نرمی سے کہتا ہےکہ اپنے حجرہ غم سے نکل کر باغ میں آؤ

ذرا باہر تو دیکھودور تک سبزہ بچھا ہے

اور ہری شاخوں پہ نارنجی شگوفے مسکراتے ہیںملائم سبز پتوں پر پڑی شبنم

سنہری دھوپ میں ہیرے کی صورت جگمگاتی ہےدرختوں میں چھپی ندی

بہت دھیمے سروں میں گنگناتی ہےچمکتے زرد پھولوں سے لدی ننھی پہاڑی کے عقب میں

نقرئی چشمہ خوشی سے کھلکھلاتا ہےپرند خوش گلو

شاخ شگفتہ پر چہکتا ہےگھنے جنگل میں بارش کا غبار سبز

سطح شیشۂ دل پرملائم انگلیوں سے مرحبا کے لفظ لکھتا ہے

کوئی آتا ہےآ کر چادر غم کو بڑی آہستگی سے

میرے شانوں سے ہٹا کرسات رنگوں کا دوپٹہ کھول کر مجھ کو اڑاتا ہے

میں کھل کر سانس لیتی ہوںمرے اندر

کوئی پیروں میں گھنگھرو باندھتا ہےرقص کا آغاز کرتا ہے

مرے کانوں کے آویزوں کو یہ کس نے چھواجس سے لویں پھر سے گلابی ہو گئی ہیں

کوئی سرگوشیوں میں پھر سے میرا نام لیتا ہےفضا کی نغمگی آواز دیتی ہے

ہوا جام صحت تجویز کرتی ہے

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں