21 اشعار

اتنا معلوم ہے!

Itna maloom hai!

اتنا معلوم ہے!

«اتنا معلوم ہے!» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔

اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم درازسوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوگا

میں یہاں ہوں مگر اس کوچۂ رنگ و بو میںروز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہوگا

اور جب اس نے وہاں مجھ کو نہ پایا ہوگا!؟آپ کو علم ہے وہ آج نہیں آئی ہیں؟

میری ہر دوست سے اس نے یہی پوچھا ہوگاکیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخر

خود سے اس بات پہ سو بار وہ الجھا ہوگاکل وہ آئے گی تو میں اس سے نہیں بولوں گا

آپ ہی آپ کئی بار وہ روٹھا ہوگاوہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن

سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے یہ سوچا ہوگاراہداری میں ہرے لان میں پھولوں کے قریب

اس نے ہر سمت مجھے آن کے ڈھونڈا ہوگانام بھولے سے جو میرا کہیں آیا ہوگا

غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہوگاایک جملے کو کئی بار سنایا ہوگا

بات کرتے ہوئے سو بار وہ بھولا ہوگایہ جو لڑکی نئی آئی ہے کہیں وہ تو نہیں

اس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہوگاجان محفل ہے مگر آج فقط میرے بغیر

ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہوگاکبھی سناٹوں سے وحشت جو ہوئی ہوگی اسے

اس نے بے ساختہ پھر مجھ کو پکارا ہوگاچلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پا کر

دوستوں کو بھی کس عذر سے روکا ہوگایاد کر کے مجھے نم ہو گئی ہوں گی پلکیں

''آنکھ میں پڑ گیا کچھ'' کہہ کے یہ ٹالا ہوگااور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہوگی پناہ

ہر سطر میں مرا چہرہ ابھر آیا ہوگاجب ملی ہوگی اسے میری علالت کی خبر

اس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہوگاسوچ کر یہ کہ بہل جائے پریشانی دل

یوں ہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہوگا!اتفاقاً مجھے اس شام مری دوست ملی

میں نے پوچھا کہ سنو آئے تھے وہ؟ کیسے تھے؟مجھ کو پوچھا تھا مجھے ڈھونڈا تھا چاروں جانب؟

اس نے اک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنس دیاس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے

کیا کہا اس نے مجھے یاد نہیں ہے لیکناتنا معلوم ہے خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا!

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں