جو پھسلا میرے ہاتھ سے وہ پَل نہیں ملا
جو پھسلا میرے ہاتھ سے وہ پَل نہیں ملامیرا گزرا ہوا کل مجھے واپس نہیں ملا
لوگوں سے بھری دنیا میں ڈھونڈا بہت مگرفرشتے ملے مجھے بہت لیکن انساں نہیں ملا
کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)
مہمان شاعر: پروین شاکر
جو پھسلا میرے ہاتھ سے وہ پَل نہیں ملامیرا گزرا ہوا کل مجھے واپس نہیں ملا
لوگوں سے بھری دنیا میں ڈھونڈا بہت مگرفرشتے ملے مجھے بہت لیکن انساں نہیں ملا
کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیےپانی کو اب تو سر سے گزر جانا چاہیے
نشتر بدست شہر سے چارہ گری کی لواے زخم بے کسی تجھے بھر جانا چاہیے
رنج فراق یار میں رسوا نہیں ہوااتنا میں چپ ہوا کہ تماشا نہیں ہوا
ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہم سفر نہیںرستہ ہے اس طرح کا جو دیکھا نہیں ہوا
محفل آرا تھے مگر پھر کم نما ہوتے گئےدیکھتے ہی دیکھتے ہم کیا سے کیا ہوتے گئے
نا شناسی دہر کی تنہا ہمیں کرتی گئیہوتے ہوتے ہم زمانے سے جدا ہوتے گئے