7 اشعار

شام آئی تری یادوں کے ستارے نکلے

Shaam aai teri yaadon ke sitare nikle

شام آئی تری یادوں کے ستارے نکلے

«شام آئی تری یادوں کے ستارے نکلے» پروین شاکر کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

شام آئی تری یادوں کے ستارے نکلےرنگ ہی غم کے نہیں نقش بھی پیارے نکلے

ایک موہوم تمنا کے سہارے نکلےچاند کے ساتھ ترے ہجر کے مارے نکلے

کوئی موسم ہو مگر شان خم و پیچ وہیرات کی طرح کوئی زلف سنوارے نکلے

رقص جن کا ہمیں ساحل سے بہا لایا تھاوہ بھنور آنکھ تک آئے تو کنارے نکلے

وہ تو جاں لے کے بھی ویسا ہی سبک نام رہاعشق کے باب میں سب جرم ہمارے نکلے

عشق دریا ہے جو تیرے وہ تہی دست رہےوہ جو ڈوبے تھے کسی اور کنارے نکلے

دھوپ کی رت میں کوئی چھاؤں اگاتا کیسےشاخ پھوٹی تھی کہ ہم سایوں میں آرے نکلے

— پروین شاکر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں