چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
کلام: پروین شاکر
چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیاعشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا
اے مری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کیاہل کتاب نے مگر کیا ترا حال کر دیا
کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)
مہمان شاعر: پروین شاکر
چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیاعشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا
اے مری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کیاہل کتاب نے مگر کیا ترا حال کر دیا
تخت ہے اور کہانی ہے وہیاور سازش بھی پرانی ہے وہی
قاضی شہر نے قبلہ بدلہلیکن خطبے میں روانی ہے وہی