ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا
کلام: پروین شاکر
ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیابجتے رہیں ہواؤں سے در تم کو اس سے کیا
تم موج موج مثل صبا گھومتے رہوکٹ جائیں میری سوچ کے پر تم کو اس سے کیا
کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)
مہمان شاعر: پروین شاکر
ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیابجتے رہیں ہواؤں سے در تم کو اس سے کیا
تم موج موج مثل صبا گھومتے رہوکٹ جائیں میری سوچ کے پر تم کو اس سے کیا
یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہوجاؤ۔۔وہیں سے لوٹ جانا تم جہاں بےزار ہوجاؤ۔۔
ملاقاتوں میں وقفہ اس لئے ہونا ضروری ہے،کہ تم اک دن جدائی کے لئے تیار ہوجاؤ۔۔
خیال یکتا میں خواب اتنےسوال تنہا جواب اتنے
کبھی نہ خوبی کا دھیان آیاہوئے جہاں میں خراب اتنے