7 اشعار

اے مرے ہم نشیں چل کہیں اور چل اس چمن میں اب اپنا گزارہ نہیں

Aye mere hamnasheen chal kahin aur chal is chaman mein ab apna guzara nahin

اے مرے ہم نشیں چل کہیں اور چل اس چمن میں اب اپنا گزارہ نہیں

«اے مرے ہم نشیں چل کہیں اور چل اس چمن میں اب اپنا گزارہ نہیں» قمرجلالوی کا کلام ہے، جسے مرزا جواد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)» میں 22 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

اے مرے ہم نشیں چل کہیں اور چل اس چمن میں اب اپنا گزارہ نہیںبات ہوتی گلوں تک تو سہہ لیتے ہم اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیں

آج آئے ہو تم کل چلے جاؤ گے یہ محبت کو اپنی گوارہ نہیںعمر بھر کا سہارا بنو تو بنو دو گھڑی کا سہارا سہارا نہیں

دی صدا دار پر اور کبھی طور پر کس جگہ میں نے تم کو پکارا نہیںٹھوکریں یوں کھلانے سے کیا فائدہ صاف کہہ دو کہ ملنا گوارہ نہیں

گلستاں کو لہو کی ضرورت پڑی سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹیپھر بھی کہتے ہیں مجھ سے ی اہل چمن ی چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں

ظالمو اپنی قسمت پہ نازاں نہ ہو دور بدلے گا یہ وقت کی بات ہےوہ یقیناً سنے گا صدائیں مری کیا تمہارا خدا ہے ہمارا نہیں

اپنی زلفوں کو رخ سے ہٹا لیجیے مرا ذوق نظر آزما لیجیےآج گھر سے چلا ہوں یہی سوچ کر یا تو نذریں نہیں یا نظارہ نہیں

جانے کس کی لگن کس کے دھن میں مگن ہم کو جاتے ہوئے مڑ کے دیکھا نہیںہم نے آواز پر تم کو آواز دی پھر بھی کہتے ہیں ہم نے پکارا نہیں

— قمرجلالوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں