11 اشعار

پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی

Peete hi surkh ankhein hain mast sharab ki

پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی

«پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی» قمرجلالوی کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)» میں 22 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کیگرمی تو دیکھو ڈوبے ہوئے آفتاب کی

رخ سے جدا جو حشر میں تم نے نقاب کیدنیا یہ تاب لائے گی دو آفتاب کی

ساقی یہ رقم سچ ہے جو مجھ پر حساب کیبوتل پہ ہاتھ رکھ کے قسم کھا شراب کی

کیا کم تھا حسن باغ کہ اے باغبان حسناک شاخ تو نے اور لگا دی شباب کی

وہ تو رہا کلیم کے اصرار کا جواباور یہ جو تو نے طور کی مٹی خراب کی

موسیٰ کو اس نے سر پہ چڑھایا بھی تھا بہتجلوے نے خوب طور کی مٹی خراب کی

پھیرو نہ آنکھیں تم مرے اشکوں کے جوش پرطوفاں میں ڈوبتی نہیں کشتی حباب کی

اللہ اس کا کچھ بھی جوانی پہ حق نہیںبرسوں دعائیں مانگی ہیں جس نے شباب کی

رکھیے معاف شیخ جی مسجد میں ہجو مےباتیں خدا کے گھر میں نہ کیجے شراب کی

باغ جہاں میں اور بھی تم سے تو ہیں مگرہر پھول میں نہیں ہے نزاکت گلاب کی

جب سے گئے ہیں دیکھ کے تارے وہ اے قمرؔصورت بدل گئی ہے شب ماہتاب کی

— قمرجلالوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں