اے مرے ہم نشیں چل کہیں اور چل اس چمن میں اب اپنا گزارہ نہیں
کلام: قمرجلالوی
اے مرے ہم نشیں چل کہیں اور چل اس چمن میں اب اپنا گزارہ نہیںبات ہوتی گلوں تک تو سہہ لیتے ہم اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیں
آج آئے ہو تم کل چلے جاؤ گے یہ محبت کو اپنی گوارہ نہیںعمر بھر کا سہارا بنو تو بنو دو گھڑی کا سہارا سہارا نہیں