7 اشعار

دریا دلی کہوں تری کیا ساقیا کہ بس

Darya dili kahoon teri kya saqiya ke bas

دریا دلی کہوں تری کیا ساقیا کہ بس

«دریا دلی کہوں تری کیا ساقیا کہ بس» قمرجلالوی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)» میں 22 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

دریا دلی کہوں تری کیا ساقیا کہ بسپیمانہ اپنے منہ سے خود بول اٹھا کہ بس

ذکر شب الم پہ کلیجہ پکڑ لیاکچھ اور بھی سنوگے مرا ماجرا کہ بس

اللہ جانے غیر سے کیا گفتگو ہوئیاتنا تو بھی آیا تھا سنتا ہوا کہ بس

اور سنگ دل تھے وہ مگر آنسو نکل پڑےاس بے کسی سے میرا جنازہ اٹھا کہ بس

اچھا تری گلی سے میں جاتا ہوں باغباںکچھ اور کہنے سننے کو باقی ہے یا کہ بس

شب بھر ترے مریض کا عالم یہی رہانبضوں پہ جس نے ہاتھ رکھا کہہ دیا کہ بس

دن ہو کہ رات رونے سے مطلب ہمیں قمرؔدل دے کے ان کو ایسا نتیجہ ملا کہ بس

— قمرجلالوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں