7 اشعار

چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے

Chaman roye hanse shabnam bayaban par nikhaar aaye

چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے

«چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئے» قمرجلالوی کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)» میں 22 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

چمن روئے ہنسے شبنم بیاباں پر نکھار آئےاِک ایسا بھی نیا موسم مِرے پروردگار آئے

وہ سر کھولے ہماری لاش پر دیوانہ وار آئےاِسی کو موت کہتے ہیں تو یارب باربار آئے

سرِ گورِ غریباں آؤ لیکن یہ گزارش ہےوہاں منہ پھیر کر رونا جہاں میرا مزار آئے

بہا اے چشمِ تر ایسا بھی اِک آنسو ندامت کاجسے دامن پہ لینے رحمتِ پروردگار آئے

قفس کے ہولئے ہم تو مگر اے اہلِ گلشن تمہمیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب بہار آئے

نہ جانے کیا سمجھ کر چُپ ہوں اے صیّاد میں ورنہوہ قیدی ہوں اگر چاہوں قفس میں بھی بہار آئے

قمر دِل کیا ہے میں تو اُن کی خاطر جان بھی دیدوںمِری قسمت اگر اُن کو نہ پھر بھی اعتبار آئے

— قمرجلالوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں