7 اشعار

مریض محبت انہیں کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے

Mareez-e-mohabbat unhein ka fasana sunata raha dam nikalte nikalte

مریض محبت انہیں کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے

«مریض محبت انہیں کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے» قمرجلالوی کا کلام ہے، جسے واجد علی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)» میں 22 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

مریض محبت انہیں کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتےمگر ذکر شام الم کا جب آیا چراغ سحر بجھ گیا جلتے جلتے

انہیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا محبت نہ کرتےتمہیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے

مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہےکہیں پائے نازک میں موچ آ نہ جائے دل سخت جان کو مسلتے مسلتے

بھلا کوئی وعدہ خلافی کی حد ہے حساب اپنے دل میں لگا کر تو سوچوقیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے

ارادہ تھا ترک محبت کا لیکن فریب تبسم میں پھر آ گئے ہمابھی کھا کے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے

بس اب صبر کر رہرو راہ الفت کہ تیرے مقدر میں منزل نہیں ہےادھر سامنے سر پہ شام آ رہی ہے ادھر تھک گئے پاؤں بھی چلتے چلتے

وہ مہمان میرے ہوئے بھی تو کب تک ہوئی شمع گل اور نہ ڈوبے ستارےقمرؔ اس قدر ان کو جلدی تھی گھر کی کہ گھر چل دئے چاندنی ڈھلتے ڈھلتے

— قمرجلالوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں