اس تفکر میں سرِ بزم سحر ہوتی ہے
کلام: قمرجلالوی
اس تفکر میں سرِ بزم سحر ہوتی ہےکس کو وہ دیکھتے ہیں کس پہ نظر ہوتی ہے
مسکرا کر مجھے یوں دیکھ کے دھوکا تو دوجانتا ہوں جو محبت کی نظر ہوتی ہے
قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)
مہمان شاعر: قمرجلالوی
اس تفکر میں سرِ بزم سحر ہوتی ہےکس کو وہ دیکھتے ہیں کس پہ نظر ہوتی ہے
مسکرا کر مجھے یوں دیکھ کے دھوکا تو دوجانتا ہوں جو محبت کی نظر ہوتی ہے
مریض محبت انہیں کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتےمگر ذکر شام الم کا جب آیا چراغ سحر بجھ گیا جلتے جلتے
انہیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا محبت نہ کرتےتمہیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے