مریض محبت انہیں کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے
مریض محبت انہیں کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتےمگر ذکر شام الم کا جب آیا چراغ سحر بجھ گیا جلتے جلتے
انہیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا محبت نہ کرتےتمہیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے