10 اشعار

مجھے پھول صبر کر لیں مجھے باغباں بھلا دے

Mujhe phool sabr kar lein mujhe baghban bhula de

مجھے پھول صبر کر لیں مجھے باغباں بھلا دے

«مجھے پھول صبر کر لیں مجھے باغباں بھلا دے» قمرجلالوی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)» میں 22 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

مجھے پھول صبر کر لیں مجھے باغباں بھلا دےکہ قفس میں تنگ آ کر مرے اور ہیں ارادے

مرے بعد گر کے بجلی نہ قفس میں دل دکھا دےمجھے قید کرنے والے مرا آشیاں جلا دے

میرا منہ کفن سے کھولا مجھے دیکھ کر وہ بولےیہ نیا لباس کیوں ہے یہ کہاں ے ہیں ارادے

میں قفس میں مطمئن ہوں کہ سمجھ لیا ہے میں نےیہ چمن نہیں کہ بجلی مرا آشیاں جلا دے

مجھے پھول سے زیادہ ہے قفس میں یادِ شبنمجو چمن میں چار آنسو مِرے نام پر بہا دے

نہیں ہم ہی جب چمن میں تو چمن سے پھر غرض کیاکوئی پھول توڑ ڈالے کوئی آشیاں جلا دے

مری زندگی ہی کیا ہے میں چراغِ رہگزر ہوںجسے اک ہوا کا جھونکا ابھی آئے ابھی بجھا دے

وہ ہر اک سے پوچھتے ہیں کہ فدا ہے کیوں زمانہانہیں حسن کی خبر کیا کوئی آئینہ دکھا دے

تجھے خود خبر ہے ظالم کہ جہانِ رنگ و بو میںترے حسن کے ہیں چرچے مرے عِشق کو دعا دے

شبِ ہجر بات جب ہے کہ قمر کو وہ نالےکوئی توڑ دے ستارے کوئی آسماں ہلا دے

— قمرجلالوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں