پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی
کلام: قمرجلالوی
پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کیگرمی تو دیکھو ڈوبے ہوئے آفتاب کی
رخ سے جدا جو حشر میں تم نے نقاب کیدنیا یہ تاب لائے گی دو آفتاب کی
قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)
مہمان شاعر: قمرجلالوی
پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کیگرمی تو دیکھو ڈوبے ہوئے آفتاب کی
رخ سے جدا جو حشر میں تم نے نقاب کیدنیا یہ تاب لائے گی دو آفتاب کی