9 اشعار

اس تفکر میں سرِ بزم سحر ہوتی ہے

Is tafakkur mein sar-e-bazm-e-sahar hoti hai

اس تفکر میں سرِ بزم سحر ہوتی ہے

«اس تفکر میں سرِ بزم سحر ہوتی ہے» قمرجلالوی کا کلام ہے، جسے رابعہ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ ملاقات کا دن بدلتے بدلتے (قمرجلالوی)» میں 22 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

اس تفکر میں سرِ بزم سحر ہوتی ہےکس کو وہ دیکھتے ہیں کس پہ نظر ہوتی ہے

مسکرا کر مجھے یوں دیکھ کے دھوکا تو دوجانتا ہوں جو محبت کی نظر ہوتی ہے

تم کیا چیز ہو کونین سمٹ آتے ہیںایک وہ بھی کششِ ذوقِ نظر ہوتی ہے

آئینہ دیکھنے والے یہ خبر ہے تجھ کوکبھی انسان پہ اپنی ہی نظر ہوتی ہے

تم مرے سامنے گیسو کو سنوارا نہ کروتم تو اٹھ جاتے ہو دنیا مرے سر ہوتی ہے

عشق میں وجہ تباہی نہیں ہوتا کوئیاپنا دل ہوتا ہے یا اپنی نظر ہوتی ہے

نزع میں سامنے بیمار کے تم بھی آؤیہ وہ عالم ہے اک اک پہ نظر ہوتی ہے

دل تڑپتا ہے تو پھر جاتی ہے موت آنکھوں میںکس غضب کی خلشِ تیرِ نظر ہوتی ہے

جان دے دیں گے کسی دامنِ صحرا میں قمرمر گیا کون کہاں کس کو خبر ہوتی ہے

— قمرجلالوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں