4 اشعار

آنکھ کیا پھوڑنی اس کی جو ہو بالکل اندھا

Aankh kya phoRni us ki jo ho bilkul andha

آنکھ کیا پھوڑنی اس کی جو ہو بالکل اندھا

«آنکھ کیا پھوڑنی اس کی جو ہو بالکل اندھا» راکب مختار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

آنکھ کیا پھوڑنی اس کی جو ہو بالکل اندھاتیر کیا مارنا اس کو جسے ڈر "لگ جائے"

پاوں جھڑتے ہیں تو جھڑ جائیں مگر ایسا ہوجس جگہ آبلہ پھٹ جائے ٰ شجر لگ جائے

راستوں کے ادب آداب بجا ہیں لیکنکیا کرے جس کے تعاقب میں سفر لگ جائے

میرے پر کاٹ کے اب اپنی حفاظت کرناعین ممکن ہے مری آہ کو پر لگ جائے

— راکب مختار