6 اشعار

عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں

Ajab nahīñ hai mu'ālij shifā se mar jaayen

عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں

«عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں» راکب مختار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیںمریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں

یہ سوچ کر ہی ہمیں خود کشی ثواب لگیجو کی ہے ماں نے تو پھر بد دعا سے مر جائیں

یہ احتجاج سمندر کے دم کو کافی ہےکسی کنارے پہ دو چار پیاسے مر جائیں

فسادیوں کو میں اس شرط پر رہا کروں گاکہ فاختہ کے پروں کی ہوا سے مر جائیں

تو اپنے لہجے کی رقت کو تھوڑا کم کر دےفقیر ! لوگ نہ تیری صدا سے مر جائیں

اٹھا کے پھرتے ہیں ہم آپ صرف نام تو لیںقسم سے آپ تو کاسے کی 'کا' سے مر جائیں

— راکب مختار