6 اشعار

زندگی لاکھ کٹھن پھر بھی بسر ہو جاتی

Zindagi lākh kaṭhan phir bhī basar ho jaatī

زندگی لاکھ کٹھن پھر بھی بسر ہو جاتی

«زندگی لاکھ کٹھن پھر بھی بسر ہو جاتی» راکب مختار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

زندگی لاکھ کٹھن پھر بھی بسر ہو جاتیتم جو مل جاتے شبٍ غم کی سحر ہو جاتی

میں نے دنیا کو پرکھنا تھا ترے لہجے سےکیا بگڑ جاتا ترا بات اگر ہو جاتی

شہر کے داخلی رستوں پہ بچھاتا آنکھیںکاش مجھ کو تیرے آنے کی خبر ہو جاتی

ہمسفر تو نے تسلی ہی نہیں دی ورنہدشت کی دھوپ مرے سر پہ شجر ہو جاتی

جانے والے نے اگر مڑ کے نہ دیکھا ہوتازندگی کونج کا ٹوٹا ہوا پر ہو جاتی

عشق کا خاص علاقہ نہیں ورنہ راکبکائنات ایک طرف محوٍ سفر ہو جاتی

— راکب مختار