7 اشعار

بھٹک گیا تھا کسی آنکھ میں قیام سے میں

BhaTak gaya tha kisi aankh mein qayaam se main

بھٹک گیا تھا کسی آنکھ میں قیام سے میں

«بھٹک گیا تھا کسی آنکھ میں قیام سے میں» راکب مختار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

بھٹک گیا تھا کسی آنکھ میں قیام سے میںنکل سکا نہ کبھی میکدے کی شام سے میں

وہ بات بات میں دنیا کی بات کرتا ہےکلام کیسے کروں ایسے بد کلام سے میں

خدا کرے مجھے مرنے کا ڈھنگ آ جائےگلا رکھوں ترے خنجر پہ احترام سے میں

بوقت جنگ یہ پیاسا پکڑ میں آیا تھاطلب کروں گا نہ پانی کبھی غلام سے میں

یہ رات دن کے حوالے بھی اپنا شجرہ ہیںتو اجلی صبح سے ہے اور گہری شام سے میں

معافی مانگنے والوں کو قتل کیوں نہ کیایہ بات کہہ کے نکالا گیا خیام سے میں

یہاں وہاں سے مرے ٹکڑے دوڑ کر آتےاگر پکارا گیا ہوتا تیرے نام سے میں

— راکب مختار