6 اشعار

چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی

Chiraagh bujhne lage aur chhaayi taareeki

چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی

«چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکی» راکب مختار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

چراغ بجھنے لگے اور چھائی تاریکیچکا رہا تھا میں قیمت ہوا سے یاری کی

تو سوچ بھی نہیں سکتا جس اہتمام کے ساتھکٹے شجر پہ پرندوں نے آہ و زاری کی

وہ جس کا عشق مرا جزو روح بن گیا تھااسی نے مجھ سے محبت بھی اختیاری کی

تمہارا وجد میں آنا فقط دکھاوا تھاوہ کیفیت ہی نہیں تھی جو خود پہ طاری کی

تمہارے شہر کی حرمت کا پاس رکھتے ہوئےعدو کوئی نہ بنایا سبھی سے یاری کی

جہاں خدا کی اذاں ہو رہی ہو گیت کی نذرسنے گا کون وہاں پر صدا بھکاری کی

— راکب مختار