8 اشعار

پہنچ گیا وہ جب ہوس کے آخری مقام پر

Puhanch gaya wo jab havas ke aakhri muqaam par

پہنچ گیا وہ جب ہوس کے آخری مقام پر

«پہنچ گیا وہ جب ہوس کے آخری مقام پر» راکب مختار کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

پہنچ گیا وہ جب ہوس کے آخری مقام پرجھپٹ پڑا حلال زادہ خوبرو حرام پر

یہ کس کے پاس میکدوں کا انتظام آ گیاشراب رند مانگنے لگے خدا کے نام پر

ادھر طوائفوں میں کھو گیا ہے شاہ سلطنتادھر مری پڑی ہیں شاہ زادیاں غلام پر

تمام دوست پنسلوں سے لیس ہو کے آئے تھےسبھی نے حاشیہ لگا دیا ہے میرے نام پر

یہ سوچ کر کہ گھر کے پنچھیوں کو کیا جواب دوںنہیں گیا شکاریوں کی دعوت طعام پر

ہم اس کی آنکھیں چومنے کے جرم میں سزا ہوئےجو آنکھ رکھ کے بیٹھا ہے ہمارے صبح و شام پر

ٹپک رہی ہے روشنی حسین خدوخال سےوہ رات اوڑھ کے نکل رہی ہے اپنے کام پر

وہ داد تک وصول کر سکا نہ اپنے کرب کیکہانی کار مر گیا پہنچ کے اختتام پر

— راکب مختار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں