6 اشعار

دل میں وہ ٹیس اٹھے درد پہ قابو نہ رہے

Dil mein wo Tees uThe dard pe qaabu na rahe

دل میں وہ ٹیس اٹھے درد پہ قابو نہ رہے

«دل میں وہ ٹیس اٹھے درد پہ قابو نہ رہے» راکب مختار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

دل میں وہ ٹیس اٹھے درد پہ قابو نہ رہےپاس کس کس کو بٹھایا ترا پہلو نہ رہے

خوں کی ترسیل میں دقت کا سبب بنتی ہوجو بھی رہتا ہے رہے دل میں مگر تو نہ رہے

میری خواہش ہے کہ ہر خار میں نرماہٹ ہواس کی ضد ہے کہ گلابوں میں بھی خوشبو نہ رہے

شام ڈھلتے ہی مرے دکھ میں اضافہ کرنےتو بھی آ جاتی ہے کوئل تری کو کو نہ رہے

حکم_ہجرت پہ عمل مجھ سے بھی پہلے کیا ہےاپنا گھر چھوڑ دیا آنکھ میں آنسو نہ رہے

وقت نے چھین لۓ لمس کے سارے اسبابچاند چہرے نہ رہے ریشمی بازو نہ رہے

— راکب مختار