5 اشعار

رزق عشق فراہم باہم کیا جائے

Rizq-e-ishq faraham baaham kiya jaaye

رزق عشق فراہم باہم کیا جائے

«رزق عشق فراہم باہم کیا جائے» راکب مختار کا کلام ہے، جسے راشد نور نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

رزق عشق فراہم باہم کیا جائےہماری آنکھ پہ رحم و کرم کیا جائے

وہ اتنا ڈھیر حسین تھا کہ ہم پہ واجب ہےتمام عمر بچھڑنے کا غم کیا جاۓ

زمیں کو عرشِ معلّی تلک رسائی مِلےفلک کو کھینچ کے مِٹّی میں ضم کِیا جائے !!

وہ خواب میں بھی مرے ساتھ چل کے کہتا ہےسفر ،سفر ہے بھلے دو قدم کیا جاے۔

مریدنی کے دوپٹے کی سمت لپکا تھاجناب پیر کا بازو قلم کیا جائے

— راکب مختار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں