6 اشعار

دارالشفا سمجھ کے در یار پہ گئے

Dar-ul-shifa samajh ke dar-e-yaar pe gaye

دارالشفا سمجھ کے در یار پہ گئے

«دارالشفا سمجھ کے در یار پہ گئے» راکب مختار کا کلام ہے، جسے جاسمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

دارالشفا سمجھ کے در یار پہ گئےایسے شفا ہوئی کہ وہیں بیٹھے مر گئے

اطراف میں تو اپنے تھے ، دشمن تھا سامنےکیوں تیر میرے جسم میں ترچھے اتر گئے

وہ کچے گھر میں آج بھی رہتی ہے مطمئنشہزادے جس کی چاہ میں جاں سے گزر گئے

کم ظرف لوگ آئے تھے جاگیرِ قیس میںواپس پلٹ کے دشت کی توہین کر گئے

اتنا لُٹے ہیں مہر و مروت کی آڑ میںہم سے کسی نے ہاتھ ملایا تو ڈر گئے

وہ ہاتھ میرے ہاتھ سے چھوٹا اور اس کے بعدجو ہاتھ اس کے ہاتھ لگے ہاتھ کر گئے

— راکب مختار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں