6 اشعار

جوان بیوہ کی آہوں کے استعارے تھے

Jawaan bewa ki aahon ke ista'aare the

جوان بیوہ کی آہوں کے استعارے تھے

«جوان بیوہ کی آہوں کے استعارے تھے» راکب مختار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

جوان بیوہ کی آہوں کے استعارے تھےہواۓ شام کے جھونکے نہیں تھے آرے تھے

دلاسہ دیتے ہوے لوگ کیا سمجھ پاتےہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے

مرے کریم کھلی آنکھ سے گزار کبھیوہ قافلے جو مرے خواب سے گزارے تھے

یہ اور بات کہ پیاسے کی پیاس لے ڈوبیفرات نے تو بڑے ہاتھ پاؤں مارے تھے

ہمارے پیار کی تفصیل پوچھنے والوہم ایک باہمی دریا کے دو کنارے تھے

پھر ایک دن میں منافق بنا تو یار بنےوگرنہ جان کے دشمن تو ڈھیر سارے تھے

— راکب مختار