6 اشعار

شبوں کے دیس میں ہم کس بنا پہ ڈٹ جاتے

Shaboon ke des mein hum kis bina pe DaT jaate

شبوں کے دیس میں ہم کس بنا پہ ڈٹ جاتے

«شبوں کے دیس میں ہم کس بنا پہ ڈٹ جاتے» راکب مختار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

شبوں کے دیس میں ہم کس بنا پہ ڈٹ جاتےجہاں چراغ جلانے پہ ہاتھ کٹ جاتے

کلائی کاٹ کے سوئی ہے چین سے لڑکیاگر نہ کاٹتی دو خاندان کٹ جاتے

خوشی سے پھول گئے تھے یہ بھول کرتے ہوئےاگر اداس نہ ہوتے تو لوگ پھٹ جاتے

وہ خشک لب جو تھرکتے تو مختلف پانیسمندروں سے بھی دریاوں میں پلٹ جاتے

خدا بدن نہیں رکھتا وگرنہ یہ عاصیجہاں بھی دیکھتے بے ساختہ لپٹ جاتے

تڑپ تڑپ کے بگاڑی ہے ہم نے لاش اپنیتو کاٹتا تو بڑی عمدگی سے کٹ جاتے

— راکب مختار