5 اشعار

خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے

Khauf-e-khasara mujh ko na kal tha na aaj hai

خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے

«خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے» راکب مختار کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہےبس دل پہ ایک راجکماری کا راج ہے

اے دوست احتیاط برت جتنا ہو سکےویسے منافقت کا مرض لا علاج ہے

لے ختم ہو گیا ہے ترا شکوہء گھٹناب آستیں پہ کوئی بٹن ہے نہ کاج ہے

وہ بادشاہ مولا علی کا غلام تھاخیرات کی جگہ مرے کاسے میں تاج ہے

ہم دختر عدو کو بھی بیٹی سمجھتے ہیںیہ بات صرف بات نہیں ہے رواج ہے

— راکب مختار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں