8 اشعار

کن کے خالق کبھی ماحول جداگانہ بنے

Kin ke khaliq kabhi mahol judagana bane

کن کے خالق کبھی ماحول جداگانہ بنے

«کن کے خالق کبھی ماحول جداگانہ بنے» راکب مختار کا کلام ہے، جسے حماد ابراہیم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

کن کے خالق کبھی ماحول جداگانہ بنےدشت میں شہر بسیں ٰ شہر میں ویرانہ بنے

اشک تعمیر میں شامل نہیں ورنہ معماران کو ترتیب میں لائے تو عزاء خانہ بنے

مہنگی اشیاء کی طرف آنکھ اٹھاتے نہیں سبہر کوئ دیکھے اسے اتنا بھی سستا نہ بنے

منتٍ کوزہ گراں اب نہیں ہوتی مجھ سےجب ارادہ ہی نہیں اس کا تو اچھا؛نہ بنے

میں ترے ساتھ رہوں اور نہ لگاؤں تجھے ہاتھیعنی مٹی پہ چلوں نقش_ کف_پا نہ بنے

میں نے کچھ داغ ترے ساتھ روانہ کئے ہیںتاکہ تو میرا نہیں ہے تو کسی کا نہ بنے

ہاتھ خوش ہیں کہ بنائیں گے ترے نقش و نگارآگے تصویر کی مرضی ہے بنے یا نہ بنے

ایسا ممکن ہی نہیں صاف ورق پر راکبتو مری پیاس لکھے ساتھ میں دریا نہ بنے

— راکب مختار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں