8 اشعار

شکوے نہ کیا کر پسِ دیوار ہمارے

Shikwe na kiya kar pas-e-deewar hamare

شکوے نہ کیا کر پسِ دیوار ہمارے

«شکوے نہ کیا کر پسِ دیوار ہمارے» راکب مختار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

شکوے نہ کیا کر پسِ دیوار ہمارےپہلے بھی بہت سے ہیں وفادار ہمارے

اس شہر میں جو میٹھی زباں بول رہے ہیںیہ لوگ ہیں در اصل نمک خوار ہمارے

ہم اب بھی مدینے میں انہیں ڈھونڈ رہے ہیںلوٹے ہی نہیں جنگ سے سردار ہمارے

مقبول دعائیں بھی رکھیں زادِ سفر میںماؤں نے کئے قافلے تیار ہمارے

اے ہجرٍ خوش اخلاق انہیں چھوڑ نہ جانااب تیرے حوالے لب و رُخسار ہمارے

کم ظرف پہ کیوں خرچ کریں، کس لیے بولیںیہ لفظ تو ہیں درہم و دینار ہمارے

بازار میں بِکنے کو پڑے سوچ رہے ہیںہوتے تھے کبھی شہر میں بازار ہمارے

ہم آگ سے لوگوں کو بچاتے رہے، لیکناس جُرم میں گھر ہو گئے مِسمار ہمارے

— راکب مختار