8 اشعار

لگتا ہے اپنے عہد و بیاں سے مکر گئے

Lagta hai apne ahd-o-bayan se mukar gayi

لگتا ہے اپنے عہد و بیاں سے مکر گئے

«لگتا ہے اپنے عہد و بیاں سے مکر گئے» راکب مختار کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

لگتا ہے اپنے عہد و بیاں سے مکر گئےاے شہر وہ دلوں کے جواری کدھر گئے

محسوس کر کے سوچا مجھے ایک شخص نےمیرے دل و دماغ چراغوں سے بھر گئے

پھولوں نے تیرے جُوڑے میں آ کر پناہ لیگجرے کلائیوں کی نفاست پہ مر گئے

کوئی وفا شعار نہ بُھولے گا عمر بھرآنکھوں کے ساتھ راہ میں ہم دل بھی دھر گئے

وہ کچے گھر میں آج بھی رہتی ہے مطمئنشہزادے جس کی چاہ میں جاں سے گزر گئے

پہلے بھی کوئی کم تو نہ تھے شہر میں شریفافسوس کا مقام ہے تم بھی سُدھر گئے؟

کم ظرف لوگ آئے تھے جاگیرِ قیس میںواپس پلٹ کے دشت کی توہین کر گئے

اتنا لُٹے ہیں مہر و مروت کی آڑ میںہم سے کسی نے ہاتھ ملایا تو ڈر گئے

— راکب مختار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں