7 اشعار

ورنہ کھا جاتے مسائل مجھے خیر و شر کے

Warna kha jaate masail mujhe khair-o-shar ke

ورنہ کھا جاتے مسائل مجھے خیر و شر کے

«ورنہ کھا جاتے مسائل مجھے خیر و شر کے» راکب مختار کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

ورنہ کھا جاتے مسائل مجھے خیر و شر کےخود کو رکھا ہے غزل کےلئے مختص کر کے

میں سمندر کو پرے کرتا ہوں خود سے لیکندوڑ پڑتا ہے کوئی آنکھ میں پانی بھر کے

میری خواہش ہے کہ خوشبو کو مجسم دیکھوںمیں تو چاہوں گا کسی طرح دوپٹہ سرکے

روشنی دیکھے بنا روشنی سے کھیلتا ہےایک اندھا ترے چہرے کی وضاحت کر کے

اک نہ اک آئینہ ٹوٹا ہے کسی گھر میں ضرورہاتھ زخمی ہیں مرے شہر کے شیشہ گر کے

قبر تک جان نہیں چھوڑتے یہ دشمنِ جاںدکھ بڑے پکے ہوا کرتے ہیں کچے گھر کے

پنچھی بیٹھے ہوئے شاخوں پہ ہی مر جاتے ہیںدل میں پیوست ہوئے ایسے نشانے ڈر کے

— راکب مختار