9 اشعار

دیکھ پگلی! جو فرشتوں کی طرح لگتے ہیں

Dekh pagli! Jo farishton ki tarah lagte hain

دیکھ پگلی! جو فرشتوں کی طرح لگتے ہیں

«دیکھ پگلی! جو فرشتوں کی طرح لگتے ہیں» راکب مختار کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

دیکھ پگلی! جو فرشتوں کی طرح لگتے ہیںوقت آنے پہ درندوں کی طرح لگتے ہیں

جانے کس غم میں گرفتار ہیں بستی کے مکیںنوجواں لوگ بھی بوڑھوں کی طرح لگتے ہیں

کچھ فقیروں میں بھی ہیں شاہی عناصر موجوداور کچھ شاہ فقیروں کی طرح لگتے ہیں

ہجر جب مسند_تشہیر پہ آتا ہے تو لوگچلتی پھرتی ہوئ قبروں کی طرح لگتے ہیں

تجھ سے وابستہ ہر اک شخص مجھے پیارا ہےیہ وہ کانٹے ہیں جو پھولوں کی طرح لگتے ہیں

ترک کرنے کا جو سوچوں بھی تو ڈر جاتا ہوںیار تو فرض نمازوں کی طرح لگتے ہیں

ایک بے جسم کی قامت کا خیال آتے ہیسارے اونچے مجھے بونوں کی طرح لگتے ہیں

یہ ہے سادات کی بستی کہ جہاں سارے مکاںعصر ڈھلتی ہے تو خیموں کی طرح لگتے ہیں

صرف ہم راندہء درگاہ نہیں ہیں راکبآپ بھی اجڑے مزاروں کی طرح لگتے ہیں

— راکب مختار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں