6 اشعار

عجب نہیں کہ برس جائے ابر ، چھائے بغیر

Ajab nahin ke baras jaaye abr, chhaye baghair

عجب نہیں کہ برس جائے ابر ، چھائے بغیر

«عجب نہیں کہ برس جائے ابر ، چھائے بغیر» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

عجب نہیں کہ برس جائے ابر ، چھائے بغیررُلا بھی سکتا ہوں تجھ کو مَیں یاد آئے بغیر

کہانی سُنتے ہوئے لوگ راکھ ہوتے گئےالاؤ جلتا رہا لکڑیاں جلائے بغیر

وہ شخص بھی مجھے بالکل کہاں بدل پایا!نئی حویلی بنائی کھنڈر کو ڈھائے بغیر

کوئی اُداس مکاں تنگ پڑنے لگتا ہےسو اب گلی سے گُزرتا ہوں گنگنائے بغیر

یہ اب کُھلا کہ مَیں سایہ ہوں اور کُچھ بھی نہیںگزر گیا ہے وہ آخر، مجھے ہٹائے بغیر!

نہ جانے کس لیے رہ رہ کے ہاتھ مَلتا ہوں!کُچھ اور پائے بغیر اور کُچھ گنوائے بغیر

— سعید شارق