6 اشعار

میری بلا سے ہو کوئی در پر، نہیں ہوں میں!

Meri bala se ho koi dar par, nahin hoon main!

میری بلا سے ہو کوئی در پر، نہیں ہوں میں!

«میری بلا سے ہو کوئی در پر، نہیں ہوں میں!» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

میری بلا سے ہو کوئی در پر، نہیں ہوں میں!ویسے تو گھر ہوں آج مگر گھر نہیں ہوں میں

دل میں جزیرہ بھی ہے، خزانہ بھی، ناؤ بھییہ اور بات ہے کہ سمندر نہیں ہوں میں

ہے سامنا عجیب مساوات کا مجھےتنہائی جمع یاد، برابر: نہیں ہوں میں

سہما ہُوا ہوں وقت کی مُٹّھی میں کِس لیے!گوہر نہیں ہوں میں، کوئی کنکر نہیں ہوں میں

دستک پہ قُفل کھولنا چاہا تو یہ کُھلاباہر کھڑا ہوں خواب سے، اندر نہیں ہوں میں

آرام کرتی رہتی ہے مجھ میں فسردگیکہتا بھی ہوں کہ اُٹھ! کوئی بستر نہیں ہوں میں!

— سعید شارق