اکیلے سالگرہ مَیں نے کب منائی تھی!
کلام: سعید شارق
اکیلے سالگرہ مَیں نے کب منائی تھی!اُداسی بتّیاں، تنہائی کیک لائی تھی
پھر ایک روز وہی دُھوپ میرے کام آئیجو تیرے سائے سے چُھپ کر کبھی بچائی تھی
دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق
مہمان شاعر: سعید شارق
اکیلے سالگرہ مَیں نے کب منائی تھی!اُداسی بتّیاں، تنہائی کیک لائی تھی
پھر ایک روز وہی دُھوپ میرے کام آئیجو تیرے سائے سے چُھپ کر کبھی بچائی تھی
مِری چمک دمک اب جوہری کو یاد نہیںمَیں وہ گُہر ہوں جو اپنی لَڑی کو یاد نہیں
ذَرا بھی ہاتھ بٹاتی نہیں ہے گِریہ میںمِرا ہی غَم مِری افسردگی کو یاد نہیں