5 اشعار

بجز فنا، سر ِ شاخِ دوام کیا ہو گا!

Bajuz fana, sar-e-shakh-e-dawam kya hoga!

بجز فنا، سر ِ شاخِ دوام کیا ہو گا!

«بجز فنا، سر ِ شاخِ دوام کیا ہو گا!» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

بجز فنا، سر ِ شاخِ دوام کیا ہو گا!درخت سبز ہو یا زرد فام، کیا ہو گا!

عجب ہی کیا ہے اگر ہم بھی خواب ہو جائیں!یہ رستہ نیند بھرا ہے ، تمام کیا ہو گا!

خوشی بنی ہی نہیں ہے سو رنج کیسے بنے!جو دن نکل نہیں پایا وہ شام کیا ہو گا!

مکیں شکستہ ہیں، دیوار و بام سوختہ ہیںخبر نہیں سببِ انہدام کیا ہو گا

نکل تو آیا ہوں مَیں قہقہوں کے چُنگل سےنہ جانے اب کے اُداسی کا دام کیا ہو گا

— سعید شارق