6 اشعار

رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دیے

Rakhnon mein apni raakh ke reze samoo diye

رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دیے

«رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دیے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

رخنوں میں اپنی راکھ کے ریزے سمو دیےمیں نے بھی کتنے دُکھ در و دیوار کو دیے!

ٹُوٹا پڑا تھا نیند کا دھاگا مِری طرحسو میں نے اس میں خواب کے موتی پرو دیے

چہروں کی بِھیڑ کاٹتی گُزری مِری نگاہاور آتے آتے اُس کے خد و خال کھو دیے

پھر بھی میں تیری یاد نہ کر پایا زیبِ تنہر چند اس قبا کے سبھی داغ دھو دیے

اپنا بھی غم منایا ترے غم کے ساتھ ساتھاک طاق میں جلانا پڑے مجھ کو دو دِیے

پل بھر کو روشنی سی نظر آئی تھی کہ پِھراک شب نے میری آنکھوں میں ناخُن کھبو دیے

— سعید شارق