5 اشعار

دِن کی دیوار گِری ، شب کے در و بام بنے

Din ki deewar giri, shab ke dar-o-baam bane

دِن کی دیوار گِری ، شب کے در و بام بنے

«دِن کی دیوار گِری ، شب کے در و بام بنے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

دِن کی دیوار گِری ، شب کے در و بام بنےدیکھتے دیکھتے ہم لقمۂ ایّام بنے

خستگی ایسی کہ رستے ہی میں دم توڑ دیااشک بن تو گئے عُجلت میں مگر خام بنے

رات اور صُبح کی تصویروں کے ٹُکڑے کر دُوںاور پھر جوڑ کے دیکھوں تو وہی شام بنے

جانے سینے میں اندھیرا تھا کہ آنکھوں میں کہِیں!جو ستارے بھی بنے مجھ سے ، سیہ فام بنے

کیوں نہ دیوارِ سماعت پہ پٹخ دُوں، شارقؔاس سے پہلے کہ یہ آواز بھی کہرام بنے

— سعید شارق