6 اشعار

گُزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے!

Guzar na jaaye sama'at ke sard khanoon se!

گُزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے!

«گُزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے!» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

گُزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے!یہ بازگشت ، جو چِپکی ہوئی ہے کانوں سے

کھرا نہیں تھا مگر ایسا رائگاں بھی نہ تھاوہ سکّہ ڈھونڈ کے اب لاؤں کِن خزانوں سے!

کھنچے رہیں گے لبوں پر یہ قہقہے کب تک!یہ تِیر چُھوٹ نہ جائیں کہِیں کمانوں سے!

یہ چشمِ ابر کا پانی ، یہ نخلِ مہر کے پاتاُتر رہا ہے مِرا رزق آسمانوں سے

جو در کھُلے ہیں کبھی بند کیوں نہیں ہوتےیہ پوچھتا ہی کہاں ہے کوئی ، مکانوں سے!

اُتار پھینکا بدن سے لباس تک ، شارقؔمگر یہ بوجھ کہ ہٹتا نہیں ہے شانوں سے!

— سعید شارق