5 اشعار

اشک کیسے یہ کوئی اور نمی نکلی ہے

Ashk kaise ye koi aur nami nikli hai

اشک کیسے یہ کوئی اور نمی نکلی ہے

«اشک کیسے یہ کوئی اور نمی نکلی ہے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

اشک کیسے یہ کوئی اور نمی نکلی ہےخوش ہی اتنا ہوں کہ آنکھوں سے ہنسی نکلی ہے

تین حصوں میں بٹا رہتا ہے اب گھر میراتیرے آ جانے سے کب تیری کمی نکلی ہے

عین ممکن ہے وہیں میرے شب و روز بھی ہوںشہر نا وقت کے ملبے سے گھڑی نکلی ہے

کون آسیب ہے اس خواب سرا کا باسیروشنی آنکھ سے چلاتی ہوئی نکلی ہے

خیر میں تو کہیں موجود ہی کب ہوں شارقؔرہی ویرانی سو وہ گھر سے ابھی نکلی ہے

— سعید شارق