5 اشعار

کئی نادیدہ جہانوں کی جگہ بن جائے

Kayi naadeeda jahanon ki jagah ban jaaye

کئی نادیدہ جہانوں کی جگہ بن جائے

«کئی نادیدہ جہانوں کی جگہ بن جائے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

کئی نادیدہ جہانوں کی جگہ بن جائےپھر بڑھے تیری کمی اور خلا بن جائے

ہاتھ رکھ لیتا ہوں کانوں پہ، اُسے سوچتے وقتجانے یہ خامشی کس لمحے صدا بن جائے

سوچتے سوچتے گلدان ڈھلے، کیاری میںدیکھتے دیکھتے ہی بلب دِیا بن جائے

دل کا بوجھ آن پڑا ایک ذرا سے غم پرجیسے بچپن میں کوئی گھر کا بڑا بن جائے

اب تو جینے کے لیے آپ بھی تیّار ہوں مَیںبس تماشا ہی تو بننا ہے، سو کیا؟ بن جائے!

— سعید شارق