7 اشعار

بہت اُمید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھ

Bohat ummeed thi wabasta rahguzar ke saath

بہت اُمید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھ

«بہت اُمید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھ» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

بہت اُمید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھسو دل بھی بیٹھتا جاتا ہے اب غبار کے ساتھ

گزر رہا ہے کن انکھیوں سے دیکھتا پت جھڑہمارا کوئی تعلق تو ہے بہار کے ساتھ

پٹخ چکی ہے مری ناؤ کو چٹان، مگرمیں گِر رہا ہوں ابھی تک اُس آبشار کے ساتھ

عجب نہیں کہ گِنا جائے موتیوں میں انھیںجو خواب دیکھتا ہوں چشمِ آب دار کے ساتھ

سفر کِیا تھا کسی عمرِ جاوداں کے لیےمگر پلٹنا پڑا شامِ انتظار کے ساتھ

شجر کا راج نہ تھا، ابر کا رواج نہ تھاپھر ایک پُھول ملا بادِ ریگ زار کے ساتھ

کسی مدار کے دھوکے میں، بے خبر، شارقؔاُلجھ رہے ہیں ستارے مرے حصار کے ساتھ

— سعید شارق