5 اشعار

ردائے اشک میں لپٹی ہوئی نہیں لگتی

Radaaye ashk mein liptee hui nahin lagti

ردائے اشک میں لپٹی ہوئی نہیں لگتی

«ردائے اشک میں لپٹی ہوئی نہیں لگتی» سعید شارق کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

ردائے اشک میں لپٹی ہوئی نہیں لگتیبغور دیکھ یہ میری ہنسی نہیں لگتی

نہ جانے کیسا مکاں بن رہا ہے سینے میںسڑک تو کیا اسے کوئی گلی نہیں لگتی

نظر لگی ہے یہ کن زرد زرد آنکھوں کیگیاہ خشک ہوں اور آگ بھی نہیں لگتی

نہیں ہوں منتظر اس ہاتھ کے پیالے کامگر یہ کیا کہ مجھے پیاس ہی نہیں لگتی

لہو میں تیرتا رہتا ہے اک اندھیرا دنسو کوئی رات بھی مجھ کو نئی نہیں لگتی

— سعید شارق