6 اشعار

ہر قدم مرحلۂ دار و صلیب آج بھی ہے

Har qadam marhala-e-dār o salīb āj bhī hai

ہر قدم مرحلۂ دار و صلیب آج بھی ہے

«ہر قدم مرحلۂ دار و صلیب آج بھی ہے» ساحر لدھیانوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

ہر قدم مرحلۂ دار و صلیب آج بھی ہےجو کبھی تھا وہی انساں کا نصیب آج بھی ہے

جگمگاتے ہیں افق پر یہ ستارے لیکنراستہ منزل ہستی کا مہیب آج بھی ہے

سر مقتل جنہیں جانا تھا وہ جا بھی پہنچےسر منبر کوئی محتاط خطیب آج بھی ہے

اہل دانش نے جسے امر مسلم مانااہل دل کے لیے وہ بات عجیب آج بھی ہے

یہ تری یاد ہے یا میری اذیت کوشیایک نشتر سا رگ جاں کے قریب آج بھی ہے

کون جانے یہ ترا شاعر آشفتہ مزاجکتنے مغرور خداؤں کا رقیب آج بھی ہے

— ساحر لدھیانوی