7 اشعار

ہوس نصیب نظر کو کہیں قرار نہیں

Hawas-nasīb nazar ko kahīn qarār nahīn

ہوس نصیب نظر کو کہیں قرار نہیں

«ہوس نصیب نظر کو کہیں قرار نہیں» ساحر لدھیانوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

ہوس نصیب نظر کو کہیں قرار نہیںمیں منتظر ہوں مگر تیرا انتظار نہیں

ہمیں سے رنگ گلستاں ہمیں سے رنگ بہارہمیں کو نظم گلستاں پہ اختیار نہیں

ابھی نہ چھیڑ محبت کے گیت اے مطربابھی حیات کا ماحول خوش گوار نہیں

تمہارے عہد وفا کو میں عہد کیا سمجھوںمجھے خود اپنی محبت پہ اعتبار نہیں

نہ جانے کتنے گلے اس میں مضطرب ہیں ندیموہ ایک دل جو کسی کا گلہ گزار نہیں

گریز کا نہیں قائل حیات سے لیکنجو سچ کہوں کہ مجھے موت ناگوار نہیں

یہ کس مقام پہ پہنچا دیا زمانے نےکہ اب حیات پہ تیرا بھی اختیار نہیں

— ساحر لدھیانوی