6 اشعار

اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے

Is taraf se guzre the qāfile bahāroñ ke

اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے

«اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے» ساحر لدھیانوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کےآج تک سلگتے ہیں زخم رہ گزاروں کے

خلوتوں کے شیدائی خلوتوں میں کھلتے ہیںہم سے پوچھ کر دیکھو راز پردہ داروں کے

گیسوؤں کی چھاؤں میں دل نواز چہرے ہیںیا حسیں دھندلکوں میں پھول ہیں بہاروں کے

پہلے ہنس کے ملتے ہیں پھر نظر چراتے ہیںآشنا صفت ہیں لوگ اجنبی دیاروں کے

تم نے صرف چاہا ہے ہم نے چھو کے دیکھے ہیںپیرہن گھٹاؤں کے جسم برق پاروں کے

شغل مے پرستی گو جشن نامرادی تھایوں بھی کٹ گئے کچھ دن تیرے سوگواروں کے

— ساحر لدھیانوی